اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ اور نجف اشرف کے ممتاز عالم دین آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 18 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے سیاسی خطبے میں خطے اور دنیا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دینی اور قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ انسان سچ بیان کرے اور ظلم کے مقابل کھڑا ہو۔
انہوں نے خطے میں مختلف محوروں کے درمیان جاری مسابقت اور کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک محور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا محور مقاومت ہے جو غزہ، لبنان، شام، عراق، بحرین اور دیگر علاقوں کے مظلوم عوام کی حمایت کرتا ہے۔
بغداد کے امام جمعہ نے عراق کی مختلف حکومتوں، بالخصوص موجودہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت غیر جانبداری کے مؤقف سے دور ہوکر امریکی محور کی طرف مائل ہوگئی ہے اور بعض سرکاری مؤقف اور بیانات عوام کے مفادات اور عراق کی خودمختاری کے دفاع سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آیت اللہ موسوی نے خطے میں استحکام پیدا کرنے کی امریکی صلاحیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے اور دنیا میں امریکہ کی جنگوں اور مداخلتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی استحکام امن اور اقوام کے حقوق کے تحفظ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ فوجی اڈوں اور سیاسی تسلط کے ذریعے۔
انہوں نے خلیج فارس کے بعض ممالک کے امریکی فوجی اڈوں پر انحصار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اڈوں نے ان ممالک کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم نہیں کی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے علاقائی کشیدگی میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
بغداد کے امام جمعہ نے یمن کی جنگ اور سعودی عرب کی پالیسیوں کی حمایت میں امریکہ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور مداخلت کے نتائج سے خبردار کیا۔
آیت اللہ موسوی نے عراق میں مقاومت پر الزامات عائد کرنے کے حوالے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت اور دستاویزات پیش کیے بغیر مقاومت کے گروہوں پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔
نجف اشرف کے ممتاز عالم دین نے عراق سے سعودی عرب کی جانب میزائل داغے جانے کے حوالے سے حکومتی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیان جاری کرنے اور عجلت میں فیصلے کرنے سے پہلے اس معاملے کی مکمل تحقیق اور درست جانچ کی جائے۔
بغداد کے امام جمعہ نے ایران کے ساتھ عراق کی سرحدیں بند کیے جانے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے عراقی زائرین، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں تیل، گیس اور بجلی کے شعبوں میں عراق کے مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ایران کی گیس کا اہم کردار ہے اور اقتصادی تعاون ختم کرنے سے کم آمدنی والے اور ضرورت مند طبقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
آیت اللہ موسوی نے سرحدیں بند ہونے کے اقتصادی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور تاجروں اور شہریوں کو نقصان پہنچے گا۔
بغداد کے امام جمعہ نے آخر میں عراقی حکومت اور کوآرڈی نیشن فریم ورک سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور غیر منصفانہ فیصلوں اور فوجی کنٹرول مسلط کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک منصفانہ حکومت کا قیام درست حکمرانی، شہریوں کے حقوق کے احترام اور بیرونی وابستگی کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا تقاضا کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ